مرد حضرات کی عید کُرتے تک محدود کیوں؟

عید قریب آتے ہی ملک بھر میں خریداری زوروں پر ہے، لیکن اگر بازاروں کا رخ کیا جائے تو وہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین کا رش قدرے زیادہ نظر آئے گا۔

اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے بازاروں میں خواتین ہمیشہ ہی زیادہ ہوتی ہیں، بلکہ اس کی وجہ عید ہے، جس کی تیاری میں خواتین کو کم سے کم 3 سے زائد بار بازار کا چکر لگانا پڑتا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی بازاروں میں مرد خریدار ہیں ہی نہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ خریداری کرنے والے مردوں کی تعداد خواتین کی نسبت کم ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ، مرد بازار پہنچتے ہی قریبا ایک سے 2 گھنٹے کے دوران عید کے لیے اپنی تمام خریداری پوری کرلیتے ہوں گے ۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ خریداری کے معاملے میں مرد خواتین سے زیادہ تیز ہیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مردوں کو عید کے لیے زیادہ چیزوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔

594d5efa23069

زیادہ تر یہی سمجھا اور دیکھا گیا ہے کہ مرد کُرتے اور شلوار قمیض پر ہی اکتفا کرلیتے ہیں۔

اگر کوئی نوجوان زیادہ سے زیادہ چیزیں خرید بھی لے گا تو شلوار قمیض اور کُرتے کے علاوہ چپل خرید لے گا، اور کوئی کوئی بس گھڑی کی خریداری تک ہی جائے گا۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ مردوں کی عید شلوار، قمیض، کُرتوں، جوتوں اور پینٹ شرٹ تک محدود ہے، لاکھوں نوجوان جدید دور کے حساب سے عید کے موقع پراچھوتے فیشن بھی کرتے ہیں، جس کے لیے ان کے بازاروں کے چکر خواتین کی طرح زیادہ لگتے ہیں۔

گزشتہ چند سال سے پاکستان کے مرد حضرات میں سادہ شلوار قمیض اور کُرتوں کے بجائے جدید فیشن ایبل اور گہرے رنگوں والی ملبوسات مقبول ہوئی ہیں،جنہیں دیکھ کر دوسرے مرد حضرات ذرا چونک سے جاتے ہیں۔

کراچی، اسلام آباد، لاہوراورجیسے ہی دیگر بڑے شہروں کے بہت سارے حضرات کُرتوں میں ہی عید مناتے ہیں، جب کہ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں شلوار قمیض کو زیادہ فوقیت دی جاتی ہے۔

پینٹ شرٹ بھی زیادہ شہری علاقوں کے وہ مرد حضرات پہنتے ہیں، جو پروفیشنل ہوتے ہیں، اس لیے وہ عید کے موقع پر بھی اپنی پروفیشنل ضروریات کو مدنظر رکھ کر لباس خریدتے ہیں۔

594d69d850c6c

دوسری جانب گزشتہ چند سال سے آن لائن خریداری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث بھی مرد خریدار بازاروں کے بجائے گھر بیٹھے آن لائن کپڑے خرید لیتے ہیں۔

لیکن کیا واقعی مردوں کی عید صرف کپڑوں اور کُرتوں تک محدود ہے؟

اگر لباس کی بات کی جائے تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمان مرد حضرات عید کے موقع پر سادہ اور عام لباس پر ہی گزارا کرتے ہیں۔

مگر گزشتہ چند برسوں میں مردوں کے فیشن کے رجحانات میں بھی اضافہ ہوا ہے، اور سوشل میڈیا کے اس دور میں اس میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔

آج کل آن لائن کاروباری کمپنیاں جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر نہ صرف مرد حضرات کے لیے اچھوتے ڈیزائن کے کُرتے، شلوار قمیض اور پینٹ شرٹ فروخت کرتی ہیں۔

بلکہ وہ مردوں میں کلر میچنگ کے رجحانات کو بھی بڑھانے کی خاطر جوتے، گھڑیاں، چشمے، رنگ برنگی مفلر، اجرک اور لنگی ٹائپ کی چیزیں بھی پیش کرتے ہیں۔

594d63b9dfe94

ایسا نہیں ہے کہ ان اضافی چیزوں کی وجہ سے مرد حضرات کی شخصیت پر اثر پڑتا ہے، بلکہ ان اضافی چیزوں سے کئی نوجوان زیادہ پرکشش بھی دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہاں یہ بات بھی یاد رکھی جائے کہ ایسا فیشن ہر مرد کی شخصیت کو بہتر نہیں بناتا۔

ایسا بالکل نہیں ہے کہ مرد حضرات کی عید صرف کُرتوں اور پینٹ شرٹ تک محدود ہے، آج کل نوجوان اور درمیانی عمر کے مرد حضرات بیوٹی سیلون کا رخ بھی کرنے لگے ہیں، جہاں وہ فیشل سمیت اپنے چہرے کو پرکشش بنانے کے لیے دیگر بیوٹی ٹپس کو بھی آزماتے ہیں۔

لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مردوں کی عید خواتین کے مقابلے سادہ کپڑوں اور کم فیشن پر ہی گزرتی ہے۔

594d63bfc6839

ہم یہاں کچھ جدید اور روایتی فیشن کے نمونے پیش کر رہے ہیں، جنہیں مرد حضرات آزما کر اچھی عید مناسکتے ہیں.

روایتی مگر جدید فیشن

اگر تو آپ اپنے کلچر، اپنی روایات اور ملک سے بہت محبت کرتے ہیں، اور اسی طرز کا لباس پہننا پسند کرتے ہیں تو پاکستان کے چاروں صوبے، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور قبائلی علاقہ جات کے روایتی لباس بھی بہت ہی اچھے ہیں، جو نہ صرف اپنی ثقافت سے محبت کا اظہار ہوتے ہیں، بلکہ اس سے شخصیت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

آپ بلوچستان کے روایتی لباس کو بھی عید پر پہن سکتے ہیں۔

594d63b9a5e79

اس کے علاوہ اگر آپ روایتی لباس تو پہننا چاہتے ہیں، مگر اس کے ساتھ مفلر اور دیگر چیزیں استعمال نہیں کرنا چاہتے تو جدید فیشن ایبل کُرتے بھی آزما سکتے ہیں۔

594d63bf31e3b

سندھ کے اجرک کے ساتھ بھی آپ کی شخصیت منفرد نظر آئے گی۔

594d63bc3dc56

خیبرپختونخواہ کا روایتی فیشن بھی شخصیت کو اچھا بنانے میں مدد کرتا ہے۔

594d63be1d668

اگر آپ کو شلوار قمیض، کُرتے اور روایتی لباس پسند نہیں تو پینٹ شرٹ آزمائیں۔

594d64dbb588e

اس طرح کے لباس کو بھی آزمایا جاسکتا ہے۔

594d61aa13e63

Advertisements
Categories: Uncategorized

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: